Peoples of Swat awarded police with GOLD MEDAL

0

131204201715_swat_shangla_army_widral_police_pakistan_512x288_bbc_nocredit

پاکستان بھر میں ہر جگہ لوگ پولیس کے رویوں کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔

یہاں پولیس کی جانب سے حالات کی بہتری کے لیے کی جانے والی حالیہ کوششوں کے باعث عوامی حلقوں میں پولیس کو سراہا جاتا ہے اور عوام کی طرف سے پولیس کو بہتر کارکردگی پر گولڈ میڈل اور ہار پہنائے جارہے ہیں، جس سے پولیس فورس کا مورال بلند ہوا ہے۔اس علاقے میں پولیس کو جنگ جیسی صورت حال کا سامنا ہے اور اس جنگ میں پولیس کی قربانیوں کی فہرست طویل ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اب بھی پولیس فورس عسکریت پسندوں کا آسان ہدف ہے۔

سوات کے ایس ایس پی انویسٹی گیشن گلزار علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس پر عوام کی اعتماد کی بحالی ہی پولیس کی جیت ہے ان کے مطابق پولیس کی کارکردگی میں پہلے کی نسبت کافی بہتری آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب علاقے کے لوگ نہ صرف پولیس پر اعتماد کرتے ہے بلکہ بہتر کارکردگی پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں انھوں نے تحصیل کبل کے علاقے کانجو میں پولیس کے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ علاقے کے لوگوں نے اپنے خرچے پر گولڈ میڈل بنا کر تفتیشی افسر کو پہنایا اور بڑی تقریب کا اہتمام کیا جس میں پولیس افسران اور اہلکاروں کو ہار بھی پہنائے گئے ایس ایس پی گلزار علی کے مطابق: ’یہ پولیس کے لیے اعزاز ہے کہ اب صرف ڈیپارٹمنٹ ہی نہیں بلکہ عوام بھی پولیس کو گولڈ میڈل دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سوات میں سنہ 2013 کی نسبت سنہ 2014 میں جرائم کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں سرکاری اعداد و شمار کےمطابق اب تک قتل کے 69، اقدام قتل کے 54، دہشت گردی کے 15 اور ٹارگٹ کلنگ کے نو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں

 

141027112206_pakistan_swat_police_medals_512x288_bbc_nocredit

میڈل پانے والے ڈی پی او شیر اکبر 

سوات کے باشندوں کی اکثریت جہاں ایک طرف پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتی ہے، تو وہاں کچھ لوگ جرائم کی شرح میں اضافے سے تشویش کا شکار ہیں۔ مینگورہ کے رہائشیوں کا موقف ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف اتنا بڑا فوجی آپریشن ہوا، جبکہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ان کو جدید تربیت دی گئی، پولیس کو جدید ہتھیار سے لیس کیا گیا اور ان کی نفری بھی بڑھا دی گئی ہے پھر بھی جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کثرت سے جاری ہیں ان کی وجہ سے لوگ تشویش اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن گلزار علی نے اس حوالے سے بتایا کہ ’جرائم کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ آبادی کا بڑھنا اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی آمد ہے۔ اگر پولیس کی کارکردگی بہتر نہ ہوتی تو آج جرائم کی شرح اس سے بھی زیادہ ہوتی۔‘ حکام کے مطابق دو کروڑ آبادی والے صوبہ خیبر پختونخوا میں 65 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں جو ان حالات میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ناکافی ہیں

141027111647_pakistan_swat_police_medals_512x288_bbc_nocredit

میڈل حاصل کرنے والے ڈی آئی جی عبداللہ خان

(19)

You might also like More from author

Comments are closed.